دیوانِ غالبردیف الف
قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہوا
۱
قطرۂ مے بس کہ حیرت سے نفَس پرور ہواخطِّ جامِ مے سراسر رشتۂ گوہر ہوا
۲
اعتبارِ عشق کی خانہ خرابی دیکھناغیر نے کی آہ لیکن وہ خفا مجھ پر ہوا
۳
گرمیٔ دولت ہوئی آتش زنِ نامِ نکوخانۂ ماتم میں یاقوتِ نگیں اخگر ہوا
۴
نشّے میں گُم کردہ رہ آیا وہ مستِ فتنہ خوآج رنگِ رفتہ دورِ گردشِ ساغر ہوا
۵
درد سے در پردہ دی مژگاں سیاہاں نے شکستریزہ ریزہ استخواں کا پوست میں نشتر ہوا
۶
اے بہ ضبطِ حال خو ناکردگاں جوشِ جنوںنشۂ مے ہے اگر یک پردہ نازک تر ہوا
۷
زُہد گر دیدن ہے گِردِ خانہ ہائے منعماںدانۂ تسبیح سے میں مہرہ در ششدر ہوا
۸
اس چمن میں ریشہ داری جس نے سر کھینچا اسدؔتر زبانِ شکرِ لطفِ ساقیٔ کوثر ہوا
۳۰ / ۳۰۷