دیوانِ غالبردیف الف
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٔ جا کا
۱
گلہ ہے شوق کو دل میں بھی تنگیٔ جا کاگہر میں محو ہوا اضطراب دریا کا
۲
یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسخِ مکتوب!مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا
۳
حنائے پائے خزاں ہے بہار، اگر ہے یہیدوامِ کلفتِ خاطر ہے عیش دنیا کا
۴
ملی نہ وسعتِ جولانِ یک جنوں ہم کوعدم کو لے گئے دل میں غبارِ صحرا کا
۵
مرا شمول ہر اک دل کے پیچ و تاب میں ہےمیں مدّعا ہوں تپش نامۂ تمنّا کا
۶
غمِ فراق میں تکلیفِ سیرِ باغ نہ دومجھے دماغ نہیں خندہ ہائے بے جا کا
۷
ہنوز محرمیٔ حسن کو ترستا ہوںکرے ہے ہر بُنِ مو کام چشمِ بینا کا
۸
دل اس کو، پہلے ہی ناز و ادا سے، دے بیٹھےہمیں دماغ کہاں حُسن کے تقاضا کا
۹
نہ کہہ کہ گریہ بہ مقدارِ حسرتِ دل ہےمری نگاہ میں ہے جمع و خرچ دریا کا
۱۰
فلک کو دیکھ کے کرتا ہوں اُس کو یاد اسدؔجفا میں اُس کی ہے انداز کارفرما کا
۲۹ / ۳۰۷