دیوانِ غالبردیف الف
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کا
۱
یک ذرۂ زمیں نہیں بے کار باغ کایاں جادہ بھی فتیلہ ہے لالے کے داغ کا
۲
بے مے کِسے ہے طاقتِ آشوبِ آگہیکھینچا ہے عجزِ حوصلہ نے خط ایاغ کا
۳
بُلبل کے کاروبار پہ ہیں خندہ ہائے گلکہتے ہیں جس کو عشق، خلل ہے دماغ کا
۴
تازہ نہیں ہے نشۂ فکرِ سخن مجھےتِریاکیٔ قدیم ہوں دُودِ چراغ کا
۵
سو بار بندِ عشق سے آزاد ہم ہوئےپر کیا کریں کہ دل ہی عَدُو ہے فراغ کا
۶
بے خونِ دل ہے چشم میں موجِ نگہ غباریہ مے کدہ خراب ہے مے کے سراغ کا
۷
باغِ شگفتہ تیرا بساطِ نشاطِ دلابرِ بہار خم کدہ کِس کے دماغ کا!
۸
جوشِ بہار کلفتِ نظّارہ ہے اسدؔہے ابر پنبہ روزنِ دیوارِ باغ کا
۳۵ / ۳۰۷