دیوانِ غالبردیف الف

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

۱

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتاڈُبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

۲

ہُوا جب غم سے یوں بے حِس تو غم کیا سر کے کٹنے کانہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا

۳

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا، پر یاد آتا ہےوہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

۳۴ / ۳۰۷