دیوانِ غالبردیف الف
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھاآپ آتے تھے، مگر کوئی عناں گیر بھی تھا
تم سے بے جا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہاس میں کچھ شائبۂ خوبیٔ تقدیر بھی تھا
تو مجھے بھول گیا ہو تو پتا بتلا دوں؟کبھی فتراک میں تیرے کوئی نخچیر بھی تھا
قید میں ہے ترے وحشی کو وہی زلف کی یادہاں! کچھ اک رنجِ گراں باریٔ زنجیر بھی تھا
بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا!بات کرتے، کہ میں لب تشنۂ تقریر بھی تھا
یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے، خیر ہوئیگر بگڑ بیٹھے، تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا
دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجا ٹھنڈانالہ کرتا تھا، ولے طالبِ تاثیر بھی تھا
پیشے میں عیب نہیں، رکھیے نہ فرہاد کو نامہم ہی آشفتہ سروں میں، وہ جواں میر بھی تھا
ہم تھے مرنے کو کھڑے، پاس نہ آیا، نہ سہیآخر اُس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا؟
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحقآدمی کوئی ہمارا، دمِ تحریر بھی تھا؟
ریختے کے تمھیں استاد نہیں ہو غالبؔکہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
۳۸ / ۳۰۷