دیوانِ غالبردیف الف
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیا
۱
پھر مجھے دیدۂ تر یاد آیادل، جگر تشنۂ فریاد آیا
۲
دم لیا تھا نہ قیامت نے ہنوزپھر ترا وقتِ سفر یاد آیا
۳
سادگی ہائے تمنا، یعنیپھر وہ نیرنگِ نظر یاد آیا
۴
عذرِ واماندگی، اے حسرتِ دل!نالہ کرتا تھا، جگر یاد آیا
۵
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتیکیوں ترا راہ گزر یاد آیا
۶
کیا ہی رضواں سے لڑائی ہو گیگھر ترا خلد میں گر یاد آیا
۷
آہ! وہ جرأتِ فریاد کہاںدل سے تنگ آ کے جگر یاد آیا
۸
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیالدلِ گم گشتہ، مگر، یاد آیا
۹
کوئی ویرانی سی ویرانی ہےدشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
۱۰
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔسنگ اٹھایا تھا، کہ سر یاد آیا
۳۷ / ۳۰۷