دیوانِ غالبردیف الف

تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھا

۱

تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھااوروں پہ ہے وہ ظلم، کہ مجھ پر نہ ہوا تھا

۲

چھوڑا مہِ نخشب کی طرح دستِ قضا نےخورشید ہنوز اس کے برابر نہ ہوا تھا

۳

توفیق بہ اندازۂ ہمت ہے ازل سےآنکھوں میں ہے وہ قطرہ، کہ گوہر نہ ہوا تھا

۴

جب تک کہ نہ دیکھا تھا قدِ یار کا عالممیں معتقدِ فتنۂ محشر نہ ہوا تھا

۵

میں سادہ دل، آزردگیٔ یار سے خوش ہوںیعنی سبقِ شوقِ مکرّر نہ ہوا تھا

۶

دریائے معاصی تُنُک آبی سے ہوا خشکمیرا سرِ دامن بھی ابھی تر نہ ہوا تھا

۷

جاری تھی اسدؔ! داغِ جگر سے مِری تحصیلآتش کدہ جاگیرِ سَمَندر نہ ہوا تھا

۴۰ / ۳۰۷