تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھا

جاری تھی اسدؔ! داغِ جگر سے مِری تحصیلآتش کدہ جاگیرِ سَمَندر نہ ہوا تھا

Editors' notes

مری: مروجہ نسخوں کی اکثریت میں یہاں "مِرے" چھپا ہے۔ مطلب یہ کہ "میرے داغِ جگر سے تحصیل جاری تھی" مگر سوال یہ ہے کہ سمندر کے مقابلے میں یہاں کون تحصیلِ آتش کر رہا تھا؟ اس کا کوئی جواب نہیں ہے، جب تک یہاں "مِرے" کی بجائے "مِری" نہ پڑھا جائے۔ یعنی داغِ جگر سے میری تحصیلِ تب و تاب اس وقت بھی جاری تھی جب کہ سمندر تک کو آتش‌کدہ عطا نہ ہوا تھا۔ نسخۂ نظامی میں "مِری" ہی چھپا ہے، مگر قدیم نسخوں میں تو "مِرے" کو بھی "مِری" ہی لکھا جاتا تھا۔ لہٰذا صرف معنوی دلیل ہی متن کے اندراج کے حق میں دی جا سکتی ہے۔ حسرت موہانی اور عرشی کا بھی غالباً اسی دلیل پر اتفاق ہو گا۔ ان دونوں کے سوا شاید اور کسی فاضل مرتبِ دیوان غالبؔ نے یہاں "مِری" نہیں لکھا۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 7 of 7 in “⁨تُو دوست کسی کا بھی، ستم گر! نہ ہوا تھا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۷ / ۷