دیوانِ غالبردیف الف

ضعفِ جنوں کو، وقتِ تپش، در بھی دور تھا

۱

ضعفِ جنوں کو، وقتِ تپش، در بھی دور تھااک، گھر میں، مختصر سا بیاباں ضرور تھا

۲

اے وائے غفلتِ نگہِ شوق! ورنہ یاںہر پارۂ سنگ لختِ دلِ کوہِ طور تھا

۳

درسِ تپش ہے برق کو اب جس کے نام سےوہ دل ہے یہ کہ جس کا تخلص صبور تھا

۴

شاید کہ مر گیا ترے رخسار دیکھ کرپیمانہ رات، ماہ کا لب ریزِ نور تھا

۵

آئینہ دیکھ، اپنا سا منہ لے کے رہ گئےصاحب کو دل نہ دینے پہ کتنا غرور تھا

۶

قاصد کو اپنے ہاتھ سے گردن نہ ماریےاس کی خطا نہیں ہے یہ میرا قصور تھا

۷

جنت ہے تیری تیغ کے کشتوں کی منتظرجوہرِ سواد، جلوۂ مژگانِ حور تھا

۸

ہر رنگ میں جلا اسدؔ فتنہ انتظارپروانہ تجلی شمعِ ظہور تھا

۴۲ / ۳۰۷