ذکر اس پریوش کا اور پھر بیاں اپنا
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
Editors' notes
ادھر: اکثر نسخوں میں "اُدھر" کی جگہ "اِدھر" چھپا ہے۔ نسخۂ حمیدیہ میں "پرے" چھپا ہے۔ شعر کا صحیح مفہوم "اُدھر" یا "پرے" سے ادا ہوتا ہے۔ " اِدھر" لکھنے والوں نے اس شعر کی جو شرحیں لکھی ہیں وہ تسلی بخش نہیں ہیں۔ (نسخۂ نظامی : "اِدھر"۔) — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 3 of 8 in “ذکر اس پریوش کا اور پھر بیاں اپنا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۸