دیوانِ غالبردیف الف
ذکر اس پریوش کا اور پھر بیاں اپنا
۱
ذکر اس پریوش کا اور پھر بیاں اپنابن گیا رقیب آخر، تھا جو رازداں اپنا
۲
مے وہ کیوں بہت پیتے بزمِ غیر میں یا ربآج ہی ہوا منظور اُن کو امتحاں اپنا
۳
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتےعرش سے اُدھر ہوتا، کاشکے مکاں اپنا
۴
دے وہ جس قدر ذلت ہم ہنسی میں ٹالیں گےبارے آشنا نکلا، ان کا پاسباں، اپنا
۵
دردِ دل لکھوں کب تک، جاؤں ان کو دکھلا دوںانگلیاں فگار اپنی، خامہ خوںچکاں اپنا
۶
گھستے گھستے مٹ جاتا، آپ نے عبث بدلاننگِ سجدہ سے میرے، سنگِ آستاں اپنا
۷
تا کرے نہ غمازی، کر لیا ہے دشمن کودوست کی شکایت میں ہم نے ہمزباں اپنا
۸
ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھےبے سبب ہوا غالبؔ دشمن آسماں اپنا
۴۶ / ۳۰۷