طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کا
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاںبے شانۂ صبا نہیں، طرہ گیاہ کا
Editors' notes
شعر: اس شعر سے لے کر مقطع تک مروجہ دیوان میں الگ غزل کے طور پر درج ہیں، مگر نسخۂ حمیدیہ اور نسخۂ رضا میں یہ ایک اور غزل کا حصہ ہیں جس کا مطلع ہے: ؎ طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کا یا رب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا؟ — جویریہ مسعود
About this couplet
This is couplet 5 of 10 in “طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۵ / ۱۰