دیوانِ غالبردیف الف
طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کا
۱
طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کایا رب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا؟
۲
عزّت گزینِ بزم ہیں واماندگانِ دیدمینائے مے ہے آبلہ پائے نگاہ کا
۳
ہر گام آبلے سے ہے دل در تہِ قدمکیا بیم اہلِ درد کو سختیٔ راہ کا
۴
جَیبِ نیازِ عشق نشاں دارِ ناز ہےآئینہ ہوں شکستنِ طرفٕ کلاہ کا
۵
غافل بہ وہمِ ناز خود آرا ہے ورنہ یاںبے شانۂ صبا نہیں، طرہ گیاہ کا
۶
بزمِ قدح سے عیشِ تمنا نہ رکھ، کہ رنگصیدِ ز دام جستہ ہے اس دام گاہ کا
۷
رحمت اگر قبول کرے، کیا بعید ہےشرمندگی سے عذر نہ کرنا گناہ کا
۸
مقتل کو کس نشاط سے جاتا ہوں میں، کہ ہےپُرگل خیالِ زخم سے دامن نگاہ کا
۹
جاں در "ہوائے یک نگہِ گرم" ہے اسدؔپروانہ ہے وکیل ترے داد خواہ کا
۱۰
طاؤس در رکاب ہے ہر ذرّہ آہ کایا رب نفس غبار ہے کس جلوہ گاہ کا؟
۴۷ / ۳۰۷