مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں کچھ نہ کچھ تلافیٔ مافات چاہیے
Editors' notes
کی: نسخۂ مہر میں "کو"۔ — جویریہ مسعود مزید: یہاں "کی" کے بجائے "کو" معنوی لحاظ سے غلط ہے کیوں کہ شاعر خود داد طلب ہے، جسے اس مصرع میں: ؏ ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد۔ بعض اچھے نسخوں میں "کو" سہواً چھپا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 4 of 10 in “مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۴ / ۱۰