دیوانِ غالبردیف ی
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
۱
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیےبھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
۲
وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیےصاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
۳
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پرآخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
۴
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کیہاں کچھ نہ کچھ تلافیٔ مافات چاہیے
۵
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّریتقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
۶
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کواک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
۷
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جداہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
۸
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودیرو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
۹
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفاتعارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
۱۰
نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کوخاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
۱۴۲ / ۳۰۷