دیوانِ غالبردیف ی
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی
بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی
رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی
خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی
نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی
نہ اتنا بُرِّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریائے بے تابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی
مئے عشرت کی خواہش ساقیٔ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی
مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہےکہیں ہو جائے جلد اے گردشِ گردونِ دوں، وہ بھی!
نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کو آنے کاکہ میری خواب بندی کے لیے ہو گا فسوں وہ بھی
مرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی
۱۴۳ / ۳۰۷