دیوانِ غالبردیف ی

بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھی

۱

بساطِ عجز میں تھا ایک دل یک قطرہ خوں وہ بھیسو رہتا ہے بہ اندازِ چکیدن سر نگوں وہ بھی

۲

رہے اس شوخ سے آزردہ ہم چندے تکلّف سےتکلّف بر طرف، تھا ایک اندازِ جنوں وہ بھی

۳

خیالِ مرگ کب تسکیں دلِ آزردہ کو بخشےمرے دامِ تمنّا میں ہے اک صیدِ زبوں وہ بھی

۴

نہ کرتا کاش نالہ مجھ کو کیا معلوم تھا ہمدمکہ ہو گا باعثِ افزائشِ دردِ دروں وہ بھی

۵

نہ اتنا بُرِّشِ تیغِ جفا پر ناز فرماؤمرے دریائے بے تابی میں ہے اک موجِ خوں وہ بھی

۶

مئے عشرت کی خواہش ساقیٔ گردوں سے کیا کیجےلیے بیٹھا ہے اک دو چار جامِ واژگوں وہ بھی

۷

مجھے معلوم ہے جو تو نے میرے حق میں سوچا ہےکہیں ہو جائے جلد اے گردشِ گردونِ دوں، وہ بھی!

۸

نظر راحت پہ میری کر نہ وعدہ شب کو آنے کاکہ میری خواب بندی کے لیے ہو گا فسوں وہ بھی

۹

مرے دل میں ہے غالبؔ شوقِ وصل و شکوۂ ہجراںخدا وہ دن کرے جو اس سے میں یہ بھی کہوں، وہ بھی

۱۴۳ / ۳۰۷