دیوانِ غالبردیف ی
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
۱
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کیفلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی
۲
کھلے گا کس طرح مضموں مرے مکتوب کا یا رب!قسم کھائی ہے اس کافر نے کاغذ کے جلانے کی
۳
لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہےولے مشکل ہے حکمت، دل میں سوزِ غم چھپانے کی
۴
انھیں منظور اپنے زخمیوں کا دیکھ آنا تھااٹھے تھے سیرِ گل کو، دیکھنا شوخی بہانے کی
۵
ہماری سادگی تھی التفاتِ ناز پر مرناترا آنا نہ تھا ظالم مگر تمہید جانے کی
۶
لکدکوبِ حوادث کا تحمّل کر نہیں سکتیمری طاقت کہ ضامن تھی بتوں کے ناز اٹھانے کی
۷
کہوں کیا خوبیٔ اوضاعِ ابنائے زماں غالبؔبدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
۱۴۷ / ۳۰۷