دیوانِ غالبردیف ی

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی

۱

حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامیدل، جوشِ گریہ میں ہے ڈوبی ہوئی اسامی

۲

اس شمع کی طرح سے جس کو کوئی بجھا دےمیں بھی جلے ہؤوں میں ہوں داغِ نا تمامی

۳

کرتے ہو شکوہ کس کا؟ تم اور بے وفائیسر پیٹتے ہیں اپنا، ہم اور نیک نامی

۴

صد رنگ گل کترنا، در پردہ قتل کرناتیغِ ادا نہیں ہے پابندِ بے نیامی

۵

طرفِ سخن نہیں ہے مجھ سے، خدا نہ کردہہے نامہ بر کو اُس سے دعوائے ہم کلامی

۶

طاقت فسانۂ باد، اندیشہ شعلہ ایجاداے غم، ہنوز آتش، اے دل ہنوز خامی!

۷

ہر چند عمر گزری آزردگی میں لیکنہے شرحِ شوق کو بھی، جوں شکوہ، نا تمامی

۸

ہے یاس میں اسدؔ کو ساقی سے بھی فراغتدریا سے خشک گزری مستوں کی تشنہ کامی

۱۴۸ / ۳۰۷