دیوانِ غالبردیف ی
منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کی
۱
منظور تھی یہ شکل تجلّی کو نور کیقسمت کھلی ترے قد و رخ سے ظہور کی
۲
اِک خوں چکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیںپڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی
۳
واعظ! نہ تم پیو نہ کسی کو پلا سکوکیا بات ہے تمھاری شرابِ طہور کی!
۴
لڑتا ہے مجھ سے حشر میں قاتل، کہ کیوں اٹھا؟گویا ابھی سنی نہیں آواز صور کی
۵
آمد بہار کی ہے جو بلبل ہے نغمہ سنجاڑتی سی اک خبر ہے زبانی طیور کی
۶
گو واں نہیں، پہ واں کے نکالے ہوئے تو ہیںکعبے سے اِن بتوں کو بھی نسبت ہے دور کی
۷
کیا فرض ہے کہ سب کو ملے ایک سا جوابآؤ نہ ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی
۸
گرمی سہی کلام میں، لیکن نہ اس قدرکی جس سے بات اُس نے شکایت ضرور کی
۹
غالبؔ گر اِس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
۲۴۲ / ۳۰۷