دیوانِ غالبردیف ی

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہے

۱

غم کھانے میں بودا دلِ ناکام بہت ہےیہ رنج کہ کم ہے مئے گلفام، بہت ہے

۲

کہتے ہوئے ساقی سے، حیا آتی ہے ورنہہے یوں کہ مجھے دُردِ تہِ جام بہت ہے

۳

نَے تیر کماں میں ہے، نہ صیاد کمیں میںگوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

۴

کیا زہد کو مانوں کہ نہ ہو گرچہ ریائیپاداشِ عمل کی طمَعِ خام بہت ہے

۵

ہیں اہلِ خرد کس روشِ خاص پہ نازاں؟پا بستگیٔ رسم و رہِ عام بہت ہے

۶

زمزم ہی پہ چھوڑو، مجھے کیا طوفِ حرم سے؟آلودہ بہ مے جامۂ احرام بہت ہے

۷

ہے قہر گر اب بھی نہ بنے بات کہ ان کوانکار نہیں اور مجھے اِبرام بہت ہے

۸

خوں ہو کے جگر آنکھ سے ٹپکا نہیں اے مرگرہنے دے مجھے یاں، کہ ابھی کام بہت ہے

۹

ہو گا کوئی ایسا بھی کہ غالبؔ کو نہ جانے؟شاعر تو وہ اچھا ہے پہ بدنام بہت ہے

۲۴۳ / ۳۰۷