لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئے

لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئےجان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دِل آئے

Editors' notes

غزل: یہ غزل متداول دیوان میں درج نہیں۔ اس کی وجہ غلام رسول مہر کے بقول یہ ہے کہ غالبؔ کی زندگی میں آخری بار جو دیوان چھپا تھا، یہ اس کے بعد کہی گئی ہے۔ — جویریہ مسعود مزید: یہ غزل مرزا صاحب نے اپنے دوسرے سفرِ رام پور میں ۲۸ دسمبر ۱۸۶۵ء کو یہاں سے رخصت ہونے سے پہلے کہی تھی۔ اس زمانے میں کلب علی خاں بہادر رام پور کے نواب تھے۔ نسخۂ عرشی طبع دوم، صفحہ ۴۳۳۔ — نسخۂ رضا

About this couplet

This is couplet 1 of 9 in “⁨لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۹