دیوانِ غالبردیف ی
لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئے
۱
لطفِ نظّارۂ قاتِل دمِ بسمل آئےجان جائے تو بلا سے، پہ کہیں دِل آئے
۲
ان کو کیا علم کہ کشتی پہ مری کیا گزریدوست جو ساتھ مرے تا لبِ ساحل آئے
۳
وہ نہیں ہم، کہ چلے جائیں حرم کو، اے شیخ!ساتھ حُجّاج کے اکثر کئی منزِل آئے
۴
آئیں جس بزم میں وہ، لوگ پکار اٹھتے ہیں"لو وہ برہم زنِ ہنگامۂ محفل آئے"
۵
دیدہ خوں بار ہے مدّت سے، ولے آج ندیمدل کے ٹکڑے بھی کئی خون کے شامل آئے
۶
سامنا حور و پری نے نہ کیا ہے، نہ کریںعکس تیرا ہی مگر، تیرے مقابِل آئے
۷
موت بس ان کی ہے، جو مر کے وہیں دفن ہوئےزیست ان کی ہے، جو اس کے کوچے سے گھائل آئے
۸
بن گیا سبحہ وہ زنار، خدا خیر کرے!وہ جو نازک ہے کمر، اس پہ بہت دل آئے
۹
اب ہے دِلّی کی طرف کوچ ہمارا غالبؔ!آج ہم حضرتِ نوّاب سے بھی مِل آئے
۲۴۷ / ۳۰۷