میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی
میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیتم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی
Editors' notes
غزل: یہ غزل بھی متداول دیوان میں درج نہیں۔ اس کی وجہ غلام رسول مہر کے بقول یہ ہے کہ غالبؔ کی زندگی میں آخری بار جو دیوان چھپا تھا، یہ اس کے بعد کہی گئی ہے۔ — جویریہ مسعود مزید: خط بنام نواب امین الدین احمد خاں، مورخہ ۲۶ جولائی ۱۸۶۵ء۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 9 in “میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۹