دیوانِ غالبردیف ی

میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہی

۱

میں ہوں مشتاقِ جفا، مجھ پہ جفا اور سہیتم ہو بیداد سے خوش، اس سے سوا اور سہی

۲

غیر کی مرگ کا غم کس لیے، اے غیرتِ ماہ!ہیں ہوس پیشہ بہت، وہ نہ ہُوا اور سہی

۳

تم ہو بت، پھر تمھیں پندارِ خُدائی کیوں ہے؟تم خداوند ہی کہلاؤ، خدا اور سہی

۴

حُسن میں حُور سے بڑھ کر نہیں ہونے کی کبھیآپ کا شیوہ و انداز و ادا اور سہی

۵

تیرے کوچے کا ہے مائل دلِ مضطر میراکعبہ اک اور سہی، قبلہ نما اور سہی

۶

کوئی دنیا میں مگر باغ نہیں ہے، واعظ!خلد بھی باغ ہے، خیر آب و ہوا اور سہی

۷

کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا ربسیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی

۸

مجھ کو وہ دو۔ کہ جسے کھا کے نہ پانی مانگوںزہر کچھ اور سہی، آبِ بقا اور سہی

۹

مجھ سے غالبؔ یہ علائیؔ نے غزل لکھوائیایک بیداد گرِ رنج فزا اور سہی

۲۴۸ / ۳۰۷