سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے

سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے

Editors' notes

مصرع: نسخۂ عرشی میں یوں ہے: "تسکین کو نوید"۔ اصل نسخۂ نظامی اور دوسرے نسخوں میں اِسی طرح ہے۔ — اعجاز عبید مزید: عرشیؔ صاحب کے نسخے میں یوں درج ہے: ؏ تسکین کو نوید کہ مرنے کی آس ہے۔ سترہ اٹھارہ دوسرے قدیم و جدید نسخوں میں دیکھا تو کہیں بھی یہ مصرع اِس طرح درج نہ تھا۔ لہٰذا مُندرجہ بالا صورت قائم رکھی گئی۔ ایک قدیم نسخے میں کاتب سے "دے" سہواً حذف تو ہو گیا تھا مگر وہاں بھی ذرا اوپر "دے" چھپا ہوا مل جاتا ہے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 1 of 7 in “⁨سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۷