دیوانِ غالبردیف ی

سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہے

۱

سر گشتگی میں عالمِ ہستی سے یاس ہےتسکیں کو دے نوید کہ مرنے کی آس ہے

۲

لیتا نہیں مرے دلِ آوارہ کی خبراب تک وہ جانتا ہے کہ میرے ہی پاس ہے

۳

کیجے بیاں سرورِ تبِ غم کہاں تلکہر مو مرے بدن پہ زبانِ سپاس ہے

۴

ہے وہ غرورِ حسن سے بیگانۂ وفاہرچند اس کے پاس دلِ حق شناس ہے

۵

پی جس قدر ملے شبِ مہتاب میں شراباس بلغمی مزاج کو گرمی ہی راس ہے

۶

کیا غم ہے اُس کو، جس کا علی سا امام ہواتنا بھی اے فلک زدہ، کیوں بے حواس ہے

۷

ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسدؔمجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

۱۵۱ / ۳۰۷