عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت، تِری شہرت ہی سہی

Editors' notes

میری: بعض نسخوں میں یہاں "میری" کی جگہ "مِری" اور تیسرے شعر میں "میرے" کی جگہ "مِرے" چھپا ہے۔ یہ مقامات "میری" اور "میرے" کے متقاضی ہیں اور یہی غالبؔ کے الفاظ ہیں۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 1 of 10 in “⁨عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۱ / ۱۰