دیوانِ غالبردیف ی

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہی

۱

عشق مجھ کو نہیں وحشت ہی سہیمیری وحشت، تِری شہرت ہی سہی

۲

قطع کیجے نہ تعلّق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

۳

میرے ہونے میں ہے کیا رسوائیاے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی

۴

ہم بھی دشمن تو نہیں ہیں اپنےغیر کو تجھ سے محبّت ہی سہی

۵

اپنی ہستی ہی سے ہو جو کچھ ہوآگہی گر نہیں غفلت ہی سہی

۶

عمر ہر چند کہ ہے برق خرامدل کے خوں کرنے کی فرصت ہی سہی

۷

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیںنہ سہی عشق مصیبت ہی سہی

۸

کچھ تو دے اے فلکِ نا انصافآہ و فریاد کی رخصت ہی سہی

۹

ہم بھی تسلیم کی خو ڈالیں گےبے نیازی تری عادت ہی سہی

۱۰

یار سے چھیڑ چلی جائے اسدؔگر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

۱۵۹ / ۳۰۷