اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے

زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

Editors' notes

گزری: قدیم نسخوں میں یائے معروف و مجہول کا کوئی امتیاز نہیں۔ یہاں "گزرے" بھی پڑھا جا سکتا ہے مگر غالبؔ نے کیا کہا؟ کچھ کہہ نہیں سکتے۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 3 of 3 in “⁨اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۳ / ۳