دیوانِ غالبردیف ی
اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھے
۱
اور تو رکھنے کو ہم دہر میں کیا رکھتے تھےمگر ایک شعر میں اندازِ رسا رکھتے تھے
۲
اس کا یہ حال کہ کوئی نہ ادا سنج ملاآپ لکھتے تھے ہم اور آپ اٹھا رکھتے تھے
۳
زندگی اپنی جب اس شکل سے گزری غالبؔہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
۱۶۱ / ۳۰۷