سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے!اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم، منزل میں ہے
Editors' notes
عشق ہے: عشق ہے! = مرحبا! آفرین! یہ کلمہ بہ تغیّرِ تلفظ اہلِ پنجاب کی زبانوں پر بھی ہے۔ اس شعر کو سمجھنے کے لیے دوسرے مصرع میں "قدم" کے بعد وقفہ ہونا چاہیے۔ بعض حضرات نے غلط فہمی سے "واماندگی سے عشق ہے" لکھ دیا ہے، جو مقصودِ غالبؔ نہیں۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 5 of 7 in “سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۵ / ۷