دیوانِ غالبردیف ی
سادگی پر اس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہے
۱
سادگی پر اُس کی، مر جانے کی حسرت دل میں ہےبس نہیں چلتا کہ پھر خنجر کفِ قاتل میں ہے
۲
دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اُس نے کہامیں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
۳
گرچہ ہے کس کس برائی سے ولے با ایں ہمہذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے
۴
بس ہجومِ نا امیدی خاک میں مل جائے گییہ جو اک لذّت ہماری سعیٔ بے حاصل میں ہے
۵
رنجِ رہ کیوں کھینچیے؟ واماندگی کو عشق ہے!اٹھ نہیں سکتا ہمارا جو قدم، منزل میں ہے
۶
جلوہ زارِ آتشِ دوزخ ہمارا دل سہیفتنۂ شورِ قیامت کِس کی آب و گِل میں ہے
۷
ہے دلِ شوریدۂ غالبؔ طلسمِ پیچ و تابرحم کر اپنی تمنّا پر کہ کس مشکل میں ہے
۱۶۸ / ۳۰۷