کوئی دن گر زندگانی اور ہے
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
Editors' notes
کے: قدیم نسخوں میں یائے مجہول و معروف کا امتیاز نہ تھا، اِس لیے بعض قدیم نسخوں میں یہاں "اب کے" چھپا ہے جو اِس موقع پر درست معلوم نہیں ہوتا، بالخصوص "بارہا" کے بعد ۔ یہاں مراد ہے : اب کی بار۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 3 of 6 in “کوئی دن گر زندگانی اور ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۶