دیوانِ غالبردیف ی
کوئی دن گر زندگانی اور ہے
۱
کوئی دن گر زندگانی اور ہےاپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے
۲
آتشِ دوزخ میں یہ گرمی کہاںسوزِ غم ہائے نہانی اور ہے
۳
بارہا دیکھی ہیں ان کی رنجشیںپر کچھ اب کے سرگرانی اور ہے
۴
دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ برکچھ تو پیغامِ زبانی اور ہے
۵
قاطعِ اعمار ہیں اکثر نجوموہ بلائے آسمانی اور ہے
۶
ہو چکیں غالبؔ بلائیں سب تمامایک مرگِ ناگہانی اور ہے
۱۷۱ / ۳۰۷