کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالمآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے
Editors' notes
مصرع: یہ مصرع نسخۂ رضا میں یوں درج ہے: ؏ ہے زلزلہ و صرصر و سیلاب کا عالم — جویریہ مسعود مزید: یہ مصرع ”؏ صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالم“ تھا مگر انتخابِ غالبؔ مکتوبہ ۱۸۶۶ء میں غالبؔ نے یہ مصرع بدل دیا تھا۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 3 of 9 in “کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۹