دیوانِ غالبردیف ی
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئے
۱
کہتے تو ہو تم سب کہ بتِ غالیہ مو آئےیک مرتبہ گھبرا کے کہو کوئی کہ وو آئے
۲
ہوں کشمکشِ نزع میں ہاں جذبِ محبّتکچھ کہہ نہ سکوں، پر وہ مرے پوچھنے کو آئے
۳
ہے صاعقہ و شعلہ و سیماب کا عالمآنا ہی سمجھ میں مری آتا نہیں، گو آئے
۴
ظاہر ہے کہ گھبرا کے نہ بھاگیں گے نکیرینہاں منہ سے مگر بادۂ دوشینہ کی بو آئے
۵
جلاّد سے ڈرتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتےہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس بھیس میں جو آئے
۶
ہاں اہلِ طلب! کون سنے طعنۂ نا یافتدیکھا کہ وہ ملتا نہیں اپنے ہی کو کھو آئے
۷
اپنا نہیں وہ شیوہ کہ آرام سے بیٹھیںاس در پہ نہیں بار تو کعبے ہی کو ہو آئے
۸
کی ہم نفسوں نے اثرِ گریہ میں تقریراچّھے رہے آپ اُس سے مگر مجھ کو ڈبو آئے
۹
اُس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالبؔہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
۱۷۴ / ۳۰۷