جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی
پس از مُردن بھی دیوانہ زیارت گاہِ طفلاں ہےشرارِ سنگ نے تربت پہ میری گل فشانی کی
Editors' notes
پس از مردن: نسخۂ مہرؔ میں غالباً سہوِ کاتب سے "پسِ مُردن" چھپا ہے۔ باقی قدیم و جدید نسخوں میں "پس از مُردن" ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 3 of 7 in “جنوں تہمت کشِ تسکیں نہ ہو گر شادمانی کی” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۷