جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
Editors' notes
اشعار: یہ اشعار نسخۂ حمیدیہ کے ایک قصیدے کے ہیں۔ غالبؔ نے وہیں سے الگ کر کے اپنے دیوان (اشاعت اول) میں بطور غزل شامل کر لیے۔ — نسخۂ رضا
About this couplet
This is couplet 1 of 3 in “جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۱ / ۳