دیوانِ غالبردیف ی
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی
۱
جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانیتو فسردگی نہاں ہے بہ کمینِ بے زبانی
۲
مجھے اس سے کیا توقّع بہ زمانۂ جوانیکبھی کودکی میں جس نے نہ سنی مری کہانی
۳
یوں ہی دکھ کسی کو دینا نہیں خوب ورنہ کہتاکہ مرے عدو کو یا رب ملے میری زندگانی
۱۷۹ / ۳۰۷