آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے
گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کوہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے
Editors' notes
تیری: نسخۂ نظامی اور اکثر دوسرے نسخوں میں "تِری" چھپا ہے، جو صحیح معلوم نہیں ہوتا۔ صرف نسخۂ حسرتؔ موہانی، نسخۂ بیخودؔ دہلوی اور نسخۂ مطبعِ مجیدی ۱۹۱۹ء میں صحیح صورت نظر آتی ہے۔ بہ صورتِ دیگر یہ مصرع بحر سے خارج ہو جاتا ہے۔ — حامد علی خاں
About this couplet
This is couplet 3 of 7 in “آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (دیوانِ غالب), published in 1841.
Read it in the poem۳ / ۷