دیوانِ غالبردیف ی

آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہے

۱

آ، کہ مری جان کو قرار نہیں ہےطاقتِ بیدادِ انتظار نہیں ہے

۲

دیتے ہیں جنّت حیاتِ دہر کے بدلےنشّہ بہ اندازۂ خمار نہیں ہے

۳

گِریہ نکالے ہے تیری بزم سے مجھ کوہائے کہ رونے پہ اختیار نہیں ہے

۴

ہم سے عبث ہے گمانِ رنجشِ خاطرخاک میں عشّاق کی غبار نہیں ہے

۵

دل سے اٹھا لطفِ جلوہ‌ ہائے معانیغیرِ گل آئینۂ بہار نہیں ہے

۶

قتل کا میرے کیا ہے عہد تو بارےوائے اگر عہد استوار نہیں ہے

۷

تو نے قسم مے کشی کی کھائی ہے غالبؔتیری قسم کا کچھ اعتبار نہیں ہے

۱۸۱ / ۳۰۷