دیوانِ غالبردیف ی
میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیں
۱
میں انھیں چھیڑوں اور کچھ نہ کہیںچل نکلتے جو مے پیے ہوتے
۲
قہر ہو یا بلا ہو، جو کچھ ہوکاشکے تم مرے لیے ہوتے
۳
میری قسمت میں غم گر اتنا تھادل بھی یا رب کئی دیے ہوتے
۴
آ ہی جاتا وہ راہ پر غالبؔکوئی دن اور بھی جیے ہوتے
۱۸۲ / ۳۰۷