دیوانِ غالبردیف ی

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے

۱

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

۲

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے

۳

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاساغرِ جم سے مرا جامِ سِفال اچّھا ہے

۴

بے طلب دیں تو مزہ اُس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوئے سوال اچّھا ہے

۵

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے

۶

دیکھیے پاتے ہیں عُشّاق بُتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے

۷

ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کِیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے

۸

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ ماٰل اچّھا ہے

۹

خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے

۱۰

ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچّھا ہے

۱۸۶ / ۳۰۷