دیوانِ غالبردیف ی
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی
۱
نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی
۲
خار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہےشوق گُلچِینِ گلستانِ تسلّی نہ سہی
۳
مے پرستاں خُمِ مے منہ سے لگائے ہی بنےایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی
۴
نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحراگر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی، نہ سہی
۵
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی
۶
نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی، نہ سہی
۷
عشرتِ صحبتِ خُوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالبؔ اگر عمرِ طبیعی نہ سہی
۱۸۷ / ۳۰۷