ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

Editors' notes

جیب: "جَیب" بہ‌معنیٔ "گریبان" مذکر ہے۔ بیشتر مروّجہ نسخوں میں جو "ہماری جیب" چھپا ہے وہ اس غلط فہمی کی بنا پر ہے کہ قدیم نسخوں میں یائے معروف و مجہول کا امتیاز نہ تھا۔ — حامد علی خاں

About this couplet

This is couplet 4 of 10 in “⁨ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے⁩” in the section Ghazals — Radeef Choti Ye, from Mirza Asadullah Khan Ghalib's Urdu book Diwan-e-Ghalib (⁨دیوانِ غالب⁩), published in 1841.

Read it in the poem

۴ / ۱۰