دیوانِ غالبردیف ی

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

۱

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہےتمھیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

۲

نہ شعلے میں یہ کرشمہ نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تُند خُو کیا ہے

۳

یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیٔ عدو کیا ہے

۴

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جَیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

۵

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہو گاکریدتے ہو جو اب راکھ جستجو کیا ہے

۶

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

۷

وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیزسوائے بادۂ گُلفامِ مشک‌بو کیا ہے

۸

پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

۹

رہی نہ طاقتِ گفتار اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

۱۰

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

۱۹۰ / ۳۰۷