دیوانِ غالبردیف ی

کب وہ سنتا ہے کہانی میری

۱

کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میری

۲

خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھدیکھ خوں نابہ فشانی میری

۳

کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میری

۴

ہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیالبھول جانا ہے نشانی میری

۵

متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری

۶

قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میری

۷

گرد بادِ رہِ بے تابی ہوںصرصرِ شوق ہے بانی میری

۸

دہن اس کا جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میری

۹

کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔننگِ پیری ہے جوانی میری

۱۹۴ / ۳۰۷