دیوانِ غالبردیف ی
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے
۱
تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہےاگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے
۲
رہا آباد عالم، اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سےبھرے ہیں جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے
۳
بتانِ شوخ کا دل سخت ہو گا کس قدر، یا رب!مری فریاد کو، کہسار، سازِ عجز نالی ہے
۴
نشان بے قرارِ شوق، جز مژگاں نہیں باقیکئی کانٹے ہیں اور پیراہنِ شکلِ نہالی ہے
۵
جنوں کر، اے چمن تحریرِ درسِ شغلِ تنہائینگاہِ شوق کو، صحرا بھی، دیوانِ غزالی ہے
۶
سیہ مستی ہے اہلِ خاک کو ابرِ بہاری سےزمیں جوشِ طرب سے، جامِ لب ریزِ سفالی ہے
۷
اسدؔ، مت رکھ تعجب خر دماغی ہائے منعم کاکہ یہ نامرد بھی شیر افگنِ میدانِ قالی ہے
۱۹۳ / ۳۰۷