دیوانِ غالبردیف ی

گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہے

۱

گلشن کو تری صحبت از بس کہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

۲

واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پریاں نالے کو اُور الٹا دعوائے رسائی ہے

۳

از بس کہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازےجو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے

۴

آئینہ نفس سے بھی ہوتا ہے کدورت کشعاشق کو غبارِ دل اک وجہِ صفائی ہے

۵

ہنگامِ تصوّر ہوں دریوزہ گرِ بوسہیہ کاسۂ زانو بھی اک جامِ گدائی ہے

۶

وہ دیکھ کے حسن اپنا مغرور ہوا غالبؔصد جلوۂ آئینہ، یک صبحِ جدائی ہے

۱۹۶ / ۳۰۷