دیوانِ غالبردیف ی
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی
۱
جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی
۲
اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
۳
کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سےیاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی
۴
اے بے خبراں! میرے لبِ زخمِ جگر پربخیہ جسے کہتے ہو شکایت ہے رفو کی
۵
گو زندگیٔ زاہدِ بے چارہ عبث ہےاتنا تو ہے، رہتی تو ہے تدبیر وضو کی
۶
دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کوخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی
۷
صد حیف وہ ناکام کہ اک عمر سے غالبؔحسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی
۱۹۷ / ۳۰۷